نئی دہلی، یکم اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں انسانی حقوق کی کارکن ایروم شرمیلا نے آج کہا کہ سرحد کے دونوں طرف سے جنگ کا خوف پھیلانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔شرمیلا نے زور دے کر کہا کہ حملے سے نہیں بلکہ بات چیت سے ہی پائیدار امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔شرمیلا نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ دونوں طرف ہندو اور مسلمان خاندان رہ رہے ہیں، اور مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ دشمنی یا جھگڑا کیوں ہونا چاہیے ۔ہندوستان اور پاکستان دونوں میں سے کسی بھی طرف سے جنگ کا ماحول نہیں پیداکیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ کوئی کاروائی یا یہ دکھانے کی کوشش کے لیے نہیں ہونی چاہیے کہ کون زیادہ طاقتور یا سمجھدار ہے۔ہمیں بات چیت کے ذریعے امن کے لیے کام کرنا چاہیے ۔اگر میں وزیر اعظم ہوتی تو میں صرف یہ کہتی کہ لوگوں کو پرسکون ہو جانا چاہیے ۔منی پور کی آئرن لیڈی نے افسپاکو ہٹانے کے اپنے مطالبہ کو دوہرایا اور اسے ظالمانہ قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان جیسی جمہوریت کی سوچ کے خلاف ہے۔44سالہ شرمیلا منی پور کے ملون میں سال 2000میں ہوئی فائرنگ کے واقعہ کو یاد کر کے پریس کانفرنس کے درمیان میں ہی رونے لگیں۔ اس واقعہ میں 10لوگوں کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا تھا۔شرمیلا نے اسی وجہ سے تقریبا 16سالوں تک بھوک ہڑتال کی تھی۔انہوں نے لوگوں کے جذیات کا خیال رکھتے ہوئے آئین میں باقاعدہ طور پر ترمیم کی تجویز بھی دی ۔